بنگلا دیش کی حکومت نےرواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بنگلا دیشی ٹیم کو شیڈول ایونٹ سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔
بنگلا دیشی کرکٹر روبیل حسین کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
کرک انفو کے مطابق بنگلا دیشی وزارتِ کھیل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر اے کے ایم ولی اللہ کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ سابق کپتان اور چیف سلیکٹر حبیب البشار اور فیصل دستگیر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 ورکنگ دنوں میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔
معاملے کی ابتدا 3 جنوری کو اس وقت ہوئی جب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی کہ وہ بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 اسکواڈ سے نکال دیں۔ اس فیصلے کی باضابطہ وجہ سامنے نہیں لائی گئی، تاہم اس وقت بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات کشیدہ تھے۔
اگلے ہی روز اُس وقت کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرال نے اپنے فیس بک بیان میں کہا کہ بنگلا دیشی ٹیم بھارت میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، لہٰذا آئی سی سی سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ٹیم کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
بنگلا دیش 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں براہِ راست شرکت کرے گا،آئی سی سی
بعد ازاں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ ٹیم بھارت میں نہیں کھیلے گی، تاہم آئی سی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی سنجیدہ سیکیورٹی خدشات موجود نہیں۔ کئی ملاقاتوں اور آئی سی سی وفد کے دورۂ ڈھاکا کے باوجود معاملہ حل نہ ہو سکا۔
24 جنوری کو آئی سی سی بورڈ اجلاس میں بنگلا دیش کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا۔ بعد میں آصف نذرال نے اپنے فیصلے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داری کھلاڑیوں پر ڈال دی۔
نئی حکومت کے وزیر کھیل امین الحق نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات بہتر بنائے جائیں گے اور پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں گی۔
