پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں نہایت ضروری ہیں، تاہم بچوں کی اصل اور مؤثر تربیت کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔
ایک نجی سکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر تربیت درست نہ ہو تو دین اور دنیا کی تعلیم کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
شاہد آفریدی کی پی سی بی پر تنقید، کارکردگی کی بنیاد پر سخت فیصلوں کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں، یعنی ڈھائی سے تین سال کے بچوں کو اسکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں ، بچوں کی 5 سال کی عمر تک بنیادی تربیت گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔
شاہد آفریدی نے بچوں کو موبائل فون دینے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو اس عادت سے دور رکھیں۔
شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو نکاح کے بعد موبائل فون دیا۔
