طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ فالج جیسے جان لیوا مرض کے حملے سے کئی برس قبل انسانی جسم تین ایسی عام نشانیاں ظاہر کرتا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
چین کی ژی جیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ایک جامع تحقیق کے مطابق مسلز یا پٹھوں کے حجم میں کمی، ہاتھوں کی گرفت کا کمزور ہونا اور چلنے کی رفتار کا سست پڑ جانا مستقبل میں فالج کے خطرے کی اہم علامات ہیں۔
تحقیق کے دوران 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا کئی برسوں تک جائزہ لیا گیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے پٹھوں کی مضبوطی گھٹ جاتی ہے، ان میں فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح ہاتھوں کی کمزور گرفت 7 فیصد جبکہ چلنے کی رفتار میں نمایاں کمی فالج کے خطرے کو 64 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی تیزی سے کمزوری اس بات کا اشارہ ہے کہ جسمانی ورم بڑھ رہا ہے اور میٹابولزم کے افعال تبدیل ہو رہے ہیں۔
عام طور پر فالج کی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں، جن میں جسم کے ایک حصے کا سن ہونا، بولنے میں دشواری، چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا اور بصارت کی تبدیلی شامل ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 55 سال کی عمر کے بعد ہر دہائی میں فالج کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے، خاص طور پر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
خواتین میں اس کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں جن میں شدید سردرد اور یاداشت کھو دینا شامل ہے۔
