امریکا کی تجارتی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قراردیدیا۔
عدالت نے اپنے 2-1 کے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کا غلط استعمال کیا اور صدر کو اس نوعیت کے وسیع پیمانے پر عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
یہ ٹیرف فروری 2026 میں تقریباً تمام درآمدی اشیا پر عائد کیے گئے تھے۔ عدالت کے مطابق امریکا کو ایسا سنگین معاشی یا تجارتی بحران درپیش نہیں تھا جو قانون کے تحت ان اقدامات کا جواز فراہم کرتا۔
عدالتی فیصلے کے بعد تجارتی اور کاروباری حلقوں میں اسے ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ دور میں عائد کیے گئے متعدد تجارتی اقدامات ماضی میں بھی عدالتی چیلنجز کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
