بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد پھوٹنے والے تشدد میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تشدد کے واقعات کے بعد ریاست بھر میں 200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے اور 433 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ہلاک ہونے والوں میں بھارتی وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا معاون بھی شامل ہے۔
حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کو شکست دی، تاہم ممتا بنرجی نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے۔
🚨 BREAKING | West Bengal Violence Escalates
From Madhyamgram to Basirhat bullets are replacing ballots.
Another BJP worker, Rohit Roy alias Chintu, shot in the abdomen during a clash over flag placement. This is turning into a dangerous pattern.
Democracy cannot survive under… https://t.co/T0TfKIsSpl pic.twitter.com/SHkpcRifxs— Yash Gupta (@iYashGupta_21) May 6, 2026
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ اس کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس نے تشدد کا ذمہ دار “بی جے پی کے حمایت یافتہ شرپسندوں” کو قرار دیا ہے۔
مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد سیاسی تصادم کی تاریخ رہی ہے۔ 2021 کے انتخابات کے بعد بھی مختلف جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
