آبنائے ہُرمُز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے ایران پر نئے ممکنہ حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی انرجی انفراسٹرکچر اور اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا امکان زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے کہ آیا کارروائی کی جائے یا نہیں۔
امریکی فضائیہ کا ایندھن بردار طیارہ ایمرجنسی سگنل کے بعد لاپتہ
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک پر تشویش اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں۔
تاہم اسی دوران یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی قیادت کی جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی نئی بڑی جنگ میں الجھنے کا خواہاں نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کسی بھی فیصلے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
