وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے کام والی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے کیس میں ملزم کی سزا جبری ریٹائرمنٹ سے بڑھاکر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کر دی۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے محکمانہ کارروائی کیخلاف راولپنڈی میں سرکاری ملازم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزا کو جبری ریٹائرمنٹ سے بڑھا کر فوری طور پر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کر دیا۔
بی آئی ایس پی کی امدادی رقم مستحق خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجنی چاہئے ، وفاقی محتسب
فوسپاہ کے مطابق ایک سرکاری محکمے کی سولہ خواتین ملازمین نے بار بار ہراسگی کے واقعات کی شکایات درج کرائی، محکمانہ انکوائری نے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے ملوث افسر کی جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی جسے مجاز اتھارٹی نے نافذ کیا۔
فوسپاہ کے مطابق اپیل کی سماعت کے دوران فوسپاہ نے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیا اور انکوائری کے نتائج کو برقرار رکھا، اپیل کنندہ کو دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔
وفاقی محتسب نے اسلام آباد کے نرم اسپتال کیخلاف شکایات کا نوٹس لے لیا
فیصلے میں کہا گیا کہ ہراسگی کا تعین ملزم کے ارادے کے بجائے متاثرہ فرد پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، بار بار کے واقعات کے بعد جبری ریٹائرمنٹ کی سزا ناکافی تھی لہٰذا سزا کو بڑھا کر ملازمت سے برطرفی میں تبدیل کر دیا ہے۔
