تل ابیب، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کیس میں آج ہونے والی اہم گواہی کی سماعت منسوخ کر دی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیرِاعظم کی قانونی ٹیم نے رات گئے عدالت کو ایک خصوصی پیغام ارسال کیا، جس کے بعد سماعت کو ملتوی کرنے کا حکم دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کو آج عدالت میں پیش ہو کر بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا تھا، تاہم سماعت کے ملتوی ہونے سے قانونی کارروائی ایک بار پھر مؤخر ہو گئی ہے۔
امریکا کے مطالبات ختم نہیں ہوتے، ایران کا سخت ردعمل
یہ مقدمہ طویل عرصے سے زیرِ سماعت ہے اور اس دوران متعدد بارتاخیربھی ہوچکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس میں اگرالزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو وزیرِاعظم کو10 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیس میں کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اوردیگرالزامات شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ اسرائیلی سیاسی صورتحال پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے جبکہ سماعتوں میں باربار کی تاخیر اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
