بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران کھلاڑیوں کی خواتین دوستوں یعنی ‘گرل فرینڈز کلچر’ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بورڈ کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کی دوستوں کی حد سے زیادہ مداخلت اور عوامی مقامات پر موجودگی سے لیگ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
🚨 THE BCCI TO TAKE STRICT ACTIONS AGAINST GIRLFRIEND CULTURE GOING IN THE IPL. 🚨
1️⃣ BCCI preparing to enforce strict rule on Girlfriend culture. 👫
2️⃣ BCCI wants to be careful before any major blunder happens. ‼️
Some players are staying with gfs.pic.twitter.com/oCXNcgbd3A
— Param Choudhary (@Param_117) May 4, 2026
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بورڈ ڈسپلن کے معاملے پر اب کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ ہاردک پانڈیا، یشسوی جیسوال، ایشان کشن اور ارشدیپ سنگھ جیسے کھلاڑیوں کی پارٹنرز نہ صرف ٹیم بسوں میں سفر کرتی ہیں بلکہ ٹیم ہوٹل میں بھی مقیم رہتی ہیں۔
اس صورتحال کی وجہ سے اکثر ٹیم کی بسوں کی روانگی میں تاخیر بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ بورڈ کو سب سے زیادہ تشویش ان پارٹنرز پر ہے جو سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں اور جوئے کی ایپس کی تشہیر میں ملوث ہیں، جس سے کرپشن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
Virat Rohit Dhoni सबकी पत्नियां आती हैं ground पर बुमराह की तो इंटरव्यू भी करती हैं लेकिन…
Hardik Pandya जैसा अजीब दिखावा कोई और नहीं करता है। खेल से ज़्यादा बस गर्लफ्रेण्ड के साथ दिखावे में ही लगा रहता है। हद है। pic.twitter.com/MKXau7h0Vt
— Ashwini Yadav (@iamAshwiniyadav) May 3, 2026
بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں کھلاڑیوں اور ان کی پارٹنرز کے درمیان تلخیاں پولیس شکایات تک بھی پہنچ چکی ہیں، اس لیے اب سخت قوانین بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
اینٹی کرپشن یونٹ کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور جلد ہی بی سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں نئے قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نئے ضوابط کا اطلاق صرف آئی پی ایل ہی نہیں بلکہ بھارتی نیشنل ٹیم پر بھی ہوگا۔
