عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ مہنگائی سے متعلق خدشات اور امریکی مانیٹری پالیسی کے غیر یقینی حالات قرار دیے جا رہے ہیں۔
اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,599 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ امریکی فیوچرز بھی گر کر 4,611 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کرے گا، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کو امریکی ردعمل پاکستان کے ذریعے موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ادھر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، جس سے خدشہ ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں سونے جیسی نان ییلڈنگ سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھتا ہے کیونکہ سرمایہ کار بہتر منافع کے لیے متبادل آپشنز کا رخ کرتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے شرح سود برقرار رکھتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا، جس کے بعد اس سال شرح سود میں کمی کی توقعات تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ فیڈ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث مہنگائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں امریکی مہنگائی میں تیزی آئی، جہاں پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جون 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
دیگر دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
