پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں عدالتی نظام کی بہتری اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 51 جوڈیشل افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کا حکم جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق کلیم ارشد خان کو جج احتساب عدالت پشاور تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ بابر علی خان کو ملاکنڈ سے تبدیل کر کے بھی احتساب عدالت پشاور میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ
محمد عادل خان کا پشاور سے نوشہرہ اور محمد آصف خان کا نوشہرہ سے ایبٹ آباد تبادلہ کیا گیا ہے،اسی طرح نصر اللہ خان گنڈا پور کو جج کنزیومر کورٹ پشاور اور نصرت یاسمین کو سیلز ٹیکس ٹربیونل پشاور مقرر کیا گیا ہے۔
سید عقیل شاہ کو دیر اپر، اشفاق تاج کو مردان اور سہیل شیراز کو مہمند میں تعینات کیا گیا ہے۔ محمد نسیم کو لیبر کورٹ پشاور اور محمد ارشد کو کنزیومر کورٹ کرک میں تعیناتی دی گئی ہے۔
مزید برآں فضل ستار کو ملاکنڈ اور راشدہ بانو کو مردان اے ٹی سی میں جج مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اظہر علی بٹگرام، انعام اللہ وزیر صوابی اور سعدیہ ارشد کرک میں تعینات کیے گئے ہیں۔
محمد شعیب، فرزانہ شاہد اور جمال شاہ محسود کی خدمات خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
