وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں، شناختی دستاویزات کا اجرا اور تصدیق قانون کے مطابق مجاز حکام ہی کر سکتے ہیں۔
ٹرانسفر کیس ، آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں کی درخواست مسترد کر دی
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق سرداری نظام 1976میں ختم ہو چکا ہے۔ درخواست گزارمتاثرہ فریق نہیں، اس لیے اپیل قابل سماعت نہیں، دستاویزات سے محروم متاثرہ شخص ہی عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے۔
واضح رہے خروٹی قبیلے کے سردار نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
