متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دبئی کے ویزا قوانین میں بڑی نرمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت جائیداد کی خریداری پر 2 سالہ رہائشی ویزا حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق، 2 سالہ انویسٹر ویزا کے لیے سنگل مالک (Single Owner) پر عائد قیمت کی سابقہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب مشترکہ ملکیت والی جائیداد (Joint Property) پر بھی رہائشی ویزا حاصل کیا جا سکے گا، بشرطیکہ مشترکہ جائیداد میں ہر سرمایہ کار کا حصہ کم از کم 4 لاکھ درہم ہو۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کو دبئی کی جانب راغب کرنا ہے۔
ویزوں کی دیگر کیٹیگریز کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ 5 سالہ ریٹائرمنٹ ویزا کے لیے 10 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ اس ویزا کے حصول کے لیے درخواست گزار کی عمر کم از کم 55 سال ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح 10 سالہ گولڈن ویزا کے لیے 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی حد مقرر کی گئی ہے۔ گولڈن ویزا ہولڈرز کو یہ خصوصی مراعات حاصل ہوں گی کہ وہ اپنے اہل خانہ اور گھریلو ملازمین کو اسپانسر کر سکیں گے، جبکہ انہیں ملک سے باہر طویل قیام کے باوجود اپنا ویزا برقرار رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان نئی سہولیات سے دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی آئے گی اور دنیا بھر سے مزید سرمایہ کار متحدہ عرب امارات کا رخ کریں گے۔
