ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلی بار امریکی کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں پیش ہوئے، جہاں انہیں شدید احتجاج اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
اجلاس کے دوران مظاہرین کی بڑی تعداد نے ان کے داخلے کے وقت انہیں گھیرلیا اوران کے خلاف “جنگی مجرم” کے نعرے لگائے۔
JUST NOW: Protesters swarm Sec. Hegseth as he arrives for his hearing in front of the House Armed Services Committee today, calling him “war criminal.”
Hegseth said nothing to protestors or shouted reporter questions as he walked into a prep room across from the hearing.… pic.twitter.com/u2p8iWUYXD
— Hannah Brandt (@HannahBrandt_TV) April 29, 2026
ایک امریکی خاتون صحافی نے اس موقع کی ویڈیو سوشل میڈیا پرشیئر کی، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین مسلسل نعرے بازی کر رہے ہیں جبکہ پیٹ ہیگستھ بغیر کسی ردعمل کے اجلاس میں داخل ہو رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری، معاہدہ قومی سلامتی سے مشروط
انہوں نے نہ تو مظاہرین کے نعروں کا جواب دیا اور نہ ہی صحافیوں کے سوالات پر کوئی تبصرہ کیا۔
کمیٹی اجلاس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ کو 1.5 کھرب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز پر بھی بحث جاری ہے۔
اس دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جاری آپریشن “ایپک فیوری” پر بریفنگ دی اور خطے کی صورتحال سے ارکان کو آگاہ کیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد امریکی وزیر دفاع نے ایوان نمائندگان کے ارکان کے سامنے باضابطہ طور پر گواہی دی ہے۔
