سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ماسٹر پلان اور اسٹریٹیجک پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے توہین عدالت درخواست کا فیصلہ سنا دیا۔
دو رکنی بینچ نے کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 پر عمل درآمد سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ سندھ حکومت سمیت دیگر ادارے ہائیکورٹ کے دس فروری 2026 کے حکم پر مکمل عمل درآمد کریں، اسٹریٹجک پلان 2020 سے انحراف کی صورت میں قانونی نتائج ہونگے۔
سپریم کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا سندھ ہائیکورٹ کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا
عدالت نے کہا کہ کراچی اسٹریٹجک پلان 2020 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمل درآمد کیا جائے ، جب تک گریٹر کراچی پلان 2047 قانونی طور پر منظور اور نوٹیفائی نہ ہو جائے ، نئے منصوبے کے قانونی طور پر نافذ ہونے تک کے ایس ڈی پی 2020 ہی قابل عمل رہے گا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ بادی النظر میں معاملہ مختلف اداروں، پالیسی معاملات اور قانونی فریم ورک سے جڑا ہے، عمومی طور پر ایسے معاملات آئینی دائرہ اختیار سے باہر آتے ہیں، عدالت فروری میں پہلے ہی متعلقہ درخواست میں جامع احکامات جاری کر چکی ہے۔
آئینی عدالت کے ججز کو نوٹس کا معاملہ؛ سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
عدالت نے 20 فروری 2026 کو سندھ بلڈنگ پلاننگ اینڈ کنسٹرکشن ،کنٹرول اینڈ ڈیمولیشن رولز 90 دن میں نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
