ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں ایشیا کے آزاد ممالک، خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نِک نے کرغزستان کے دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران کہا کہ ایران دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ کے تجربات بھی شیئر کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران نے اپنے دفاعی نظام کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائل حملے شامل تھے، جبکہ فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ ایران نے فروری کے آخر سے اپریل کے اوائل تک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایک شدید تنازع کا سامنا کیا، جو بعد ازاں جنگ بندی پر ختم ہوا، تاہم تنازع کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں روس اور بیلاروس کے دفاعی حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں باہمی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں دفاعی تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس کے علاقائی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔
