وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ حملہ آور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
ترجمان کے مطابق حملہ آور کی کوشش تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ سے زیادہ ارکان کو قتل کر سکے۔
گزشتہ رات کا واقعہ ثابت کرتا ہے محفوظ بال روم کتنا ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کو یقین ہے کہ حملہ آور کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ کے افراد تھے،ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ حملہ آور اکیلا نہیں تھا،حملہ آور کیخلاف وفاقی عدالت میں کیس چلایا جائے گا۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ایران جنگ کا بہت جلد خاتمہ ہو جائے گا،ایران بات کرنا چاہتا ہے تو ہمیں فون کرسکتا ہے۔
ہدف ٹرمپ تھے ، دیگر عہدیداروں کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تھا ، حملہ آور کا انکشاف
ایران سے مذاکرات ٹیلی فون پر کریں گے،ایران کے مذاکرات کاروں میں کچھ بہت مناسب ہیں اور کچھ نہیں۔
