وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ سابقہ بجٹوں سے بالکل مختلف ہے، مخالفین بھی بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں، کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ نے بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےعطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ آج ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جو اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں ، معیشت کو کوئی ہاتھ لگانے کو بھی تیار نہ تھا، ن لیگ نے معیشت کو سنبھالا اورمعاملات حل کیے، پی ٹی آئی نے کہا تھا ، خودکشی کریں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، ملک کو آئی ایم ایف سے ہمیشہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی نجات دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا، پی ٹی آئی دور میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر تھے ، پی ٹی آئی دور میں مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
ملک میں معاشی استحکام آ چکا، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، عطا تارڑ
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت ملک ڈیفالٹ سے بچا ، وزیر اعظم شہباز شریف نے ذاتی کوششوں سے آئی ایم ایف سے معاملات طے کیے، حکومت نے بھرپور محنت سے مالی گنجائش پیدا کرکے عوام کو ریلیف دیا ، ایف بی آر میں سفارش کلچر ختم کر کے میرٹ کا نظام متعارف کروایا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دہندگان پر نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، بندرگاہوں پر فیس لیس اپریزل کا آن لائن نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ جس سے تاخیر یا ناجائز مطالبات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، شوگر ملز میں کیمرے اور آئی ٹی نظام نصب کرکے ہر بوری پر بارکوڈ اور کیو آر کوڈ لگایا گیا، شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت میں جاری 200 ارب روپے کی ٹیکس لیکیج کو چھاپے مار کر روکا گیا، ٹیکس تنازعات کے حل کیلئے نئے ٹریبونلز قائم کرکے اربوں روپے کی وصولیاں ممکن بنائیں، انفورسمنٹ کے ذریعے تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی وصولی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا، 50 ہزارسے 1 لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ، دیگر آمدن والے طبقات کیلئے بھی ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ 5 اور 10 مرلے کے گھر یا پلاٹ خریدنے اور بیچنے والوں کے ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی۔
پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات اعتماد کی بنیاد پر قائم کئے، عطاتارڑ
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی سے میڈ ان پاکستان مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقتی بن سکیں گی، زرعی اور کاروباری قرضوں کی فراہمی سے ساڑھے 5 لاکھ نوجوان مستفید ہوں گے، تعلیمی مواقع بڑھانے کیلئےدانش اسکولز اور یونیورسٹی جیسے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کے شعبے پر ٹیکس رعایت کو برقرار رکھا گیا ، فری لانسرز پر کوئی نیا یا اضافی ٹیکس بوجھ نہیں ڈالا گیا، ایگریکلچر سے متعلقہ مشینری کی امپورٹ ڈیوٹی کو ختم کر دی گئی ہے، مشینری آسانی سے منگوائی جا سکے گی، سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس ختم کیا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ 36 لاکھ ریٹیلر ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد فکسڈ ٹیکس اسکیم لائی گئی، ریٹیلرز کم از کم 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کریں گے۔
