وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک سال قبل پہلگام واقعے پر پاکستان کا واضح اور دو ٹوک مؤقف پیش کیا تھا جس نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی بلیم گیم کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے اور وزیراعظم کا تاریخی خطاب اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
عطا تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کے متاثرین سے ہمدردی اور عالمی سطح پر اظہار تشویش کیا، لیکن بھارت کا رویہ ہمیشہ کی طرح منفی رہا جو دہشت گردی کے واقعات پر نہ تو مذمت کرتا ہے اور نہ ہی افسوس کا اظہار۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور بی ایل اے، ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نے بھارت کو پہلگام واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد بھارت سفارتی محاذ پر مکمل طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بھارت کی جانب سے اس پیشکش کا جواب نہ دینا خود اس کے مؤقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور اسے 600 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو پاکستان کے سچ اور قربانیوں کی روشن حقیقت ہے۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے سفارتی محاذ پر پاکستان کو تقویت دی اور دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری قوم اپنے دفاع کے لیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ کاکول میں وزیراعظم کا خطاب ملکی تاریخ میں دفاعی اور سفارتی حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
