فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مجموعی افرادی قوت میں سے تقریباً 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرے گی، جس کے تحت تقریباً 8,000 ملازمین متاثر ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلے کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث کیے جا رہے ہیں۔
اسپیس ایکس کی پاکستانی نوجوان کی اے آئی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریداری کی پیشک
رپورٹس کے مطابق میٹا نے مزید 6,000 خالی آسامیوں کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کمپنی اپنے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لا سکے۔
کمپنی کی چیف پیپل آفیسر جینیل گیل کے مطابق یہ اقدامات تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اے آئی ٹیکنالوجی میں جاری بڑی سرمایہ کاری کو متوازن کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
میٹا پہلے ہی 2025 میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بعد 2026 میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز پر مزید بھاری اخراجات کا منصوبہ رکھتی ہے۔
واٹس ایپ سمیت میٹا ایپس کیلئے سنگل لاگ اِن سسٹم متعارف
کمپنی کے مطابق یہ تبدیلیاں اس کے طویل مدتی ٹیکنالوجی وژن، خصوصاً اے آئی اور “سپر انٹیلی جنس” کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
