امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کی بھی ان تک رسائی بہت محدود رکھی گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک پراسرار شخصیت بن چکے ہیں جو مارچ میں تقرری کے بعد سے نہ عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی ان کی آواز سنی گئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای بیہوش اور حالت تشویشناک ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے والد کے کمپاؤنڈ پر بمباری کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈرز اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی ان سے ملاقات نہیں کرتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیل ان کی لوکیشن ٹریس کرکے نشانہ بنا سکتا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان جو پیشے کے اعتبار سے دل کے سرجن بھی ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای کے علاج میں شامل رہے ہیں۔
ایرانی فوج مضبوط، امریکا اوراسرائیل کومسلسل شکست کا سامنا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای تک پیغامات ہاتھ سے لکھ کر بند لفافوں میں ایک قابل اعتماد شخص سے دوسرے تک پہنچائے جاتے ہیں ،مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے دی جانے والی ہدایات بھی اسی طریقے سے واپس پہنچائی جاتی ہیں۔
