جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کے خلاف ایرانی شہریوں اور مظاہرین نے شدید احتجاج کیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ فیڈرل پریس کانفرنس میں شرکت کے بعد سیکیورٹی حصار میں اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھےاس دوران ایک احتجاجی شخص نے اچانک ان پر سرخ رنگ کا مائع پھینک دیا جوانکی گردن اور کندھوں پر گرگیا۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا، بعد ازاں رضا پہلوی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتی کو تباہ کرنیکا حکم
مظاہرین نے اس موقع پر شدید نعرے بازی کرتے ہوئے رضا پہلوی کو ایرانی عوام کا “غدار” قرار دیا اور کہا کہ ایران پر غیر ملکی حملوں کی حمایت کرنے والے افراد کسی صورت عوام کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے۔
اس واقعے سے قبل پریس کانفرنس کے دوران رضا پہلوی نے ایران پرامریکا اوراسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے انہیں “انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت” قرار دیا تھا، ایران کے موجودہ حکومتی ڈھانچے اوراس کے جبرکے نظام کو نشانہ بنانا عوامی مطالبہ ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں صورتحال کو مکمل طورپرکنٹرول میں لے لیا ہے، یہ واقعہ ایران سے متعلق سیاسی کشیدگی اورجلاوطن رہنماؤں کے کردارپرایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
