گوگل نے اپنی معروف نیویگیشن سروس گوگل میپس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی متعدد نئے فیچرز متعارف کرا دیے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیچرز لاس ویگاس میں منعقدہ ایک خصوصی ایونٹ کے دوران پیش کیے گئے، جہاں گوگل نے بتایا کہ گوگل میپس کو جدید جنریٹو اے آئی کے ساتھ مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ صارفین اور کاروباری ادارے اس سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکیں۔
پاکستان کے دو شہری خلا میں جانے کے تاریخی مشن کے لیے منتخب
رپورٹ کے مطابق ان فیچرز کی مدد سے کمپنیاں کسی بھی مقام پر اپنے مجوزہ منصوبوں کی حقیقت سے قریب تر بصری جھلک تیار کرسکیں گی۔ اس فیچر میں صارف اپنے خیالات یا منصوبے کی تفصیلات فراہم کرے گا، جس کے بعد سسٹم چند لمحوں میں ایک ایسا بصری ماڈل تیار کرے گا جو متعلقہ مقام پر اس منصوبے کی ممکنہ شکل واضح کرے گا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا بنیادی مقصد تخلیقی منصوبہ بندی کو تیز، آسان اور زیادہ مؤثر بنانا ہے تاکہ پیچیدہ تصورات کو فوری طور پر قابلِ فہم اور قابلِ مشاہدہ شکل دی جا سکے۔
مزید برآں، کمپنی نے گوگل ارتھ کے سیٹلائٹ ڈیٹا تجزیاتی نظام میں بھی بہتری متعارف کرائی ہے ۔ اس کے ذریعے صارفین گوگل کلاؤڈ میں موجود فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر کا زیادہ گہرائی سے تجزیہ کرسکیں گے اور زمین کے مختلف خطوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
اس کے علاوہ گوگل نے دو نئے ارتھ بیسڈ اے آئی ماڈلز بھی متعارف کرائے ہیں، جنہیں بنیادی انفراسٹرکچر جیسے پلوں، سڑکوں اور بجلی کی لائنوں کی شناخت کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ ان ماڈلز کی بدولت صارفین کو اپنی ایپلی کیشنز یا منصوبوں کے لیے الگ سے پیچیدہ اے آئی ماڈلز تیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اے آئی چیٹس قانونی ثبوت بن سکتی ہیں، وارننگ جاری
گوگل کے مطابق یہ پیش رفت نقشہ جاتی ٹیکنالوجی کو ایک نئے دور میں داخل کر رہی ہے، جہاں معلومات صرف دیکھنے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ انہیں سمجھنے، تجزیہ کرنے اور عملی منصوبہ بندی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہو جائے گی۔
