ٹیکنالوجی کے تیزی سے فروغ کے ساتھ ماہرین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کے استعمال پر اہم انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی جانب سے کی جانے والی گفتگو مستقبل میں قانونی معاملات میں ان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی قانونی ماہرین اور وکلا اپنے مؤکلوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اے آئی پلیٹ فارمز کو حساس معلومات کے تبادلے کے لیے محفوظ ذریعہ نہ سمجھیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں قانونی حیثیت یا ذاتی مفادات وابستہ ہوں۔
ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کب تک متاثر ہوسکتی ہے؟ اہم خبرسامنے آگئی
یہ خدشات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ایک مقدمے میں قرار دیا کہ ایک کمپنی کے سابق سربراہ کی اے آئی چیٹس کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارمز کے ساتھ ہونے والی گفتگو روایتی وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی خفیہ بات چیت کے زمرے میں نہیں آتی، جس کے باعث ایسی معلومات کو عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی فرد اپنے وکیل سے حاصل کردہ معلومات اے آئی پلیٹ فارمز پر شیئر کرتا ہے تو اس سے قانونی رازداری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹک ٹاک نے پاکستان میں بزنس گروتھ کے لیے نیا ایڈ ٹول متعارف کرا دیا
ماہرین کے مطابق صارفین کو چاہیے کہ وہ اے آئی ٹولز استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں اور ذاتی، مالی یا قانونی نوعیت کی حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت جدید دور کی ایک مفید ٹیکنالوجی ہے، تاہم اس کا غیر محتاط استعمال صارفین کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
