الیکشن 2018 نے حلیف کو حریف اور حریف کو حلیف بنادیا

الیکشن 2018 نے حلیف کو حریف اور حریف کو حلیف بنادیا | urduhumnews.wpengine.com

اسلام آباد: پانچ سال تک حکومت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے انتخابی مہم آتے ہی ایک دوسرے پرالزامات کی سیاست شروع کردیتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پانچ سال تک ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے والی پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا’سیاسی پیار‘ ختم ہوا تو ایک دوسرے میں خرابیاں نظر آنے لگیں اور تنقید کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کو آستین کا سانپ قرار دیا تو سراج الحق کے خیال میں صوبے کا بیڑا غرق کرنے میں پرویز خٹک کا ہاتھ ہے۔

پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے نہیں تھکتی ہے تو سیاسی مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں وہ سب کچھ کیوں نہ کر پائی جس کا طعنہ وہ ان جماعتوں کو دیتی ہے۔

الیکشن قریب آئے تو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پنجاب کو ملائیشیا اور ترکی بنانے کا دعویٰ داغ دیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ سب کچھ پہلے کیوں نہیں یاد آیا۔ پنجاب پہ بلاشرکت غیرے وہ گزشتہ دس سال سے حکمران ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو کراچی کے مسائل الیکشن کے قریب یاد آئے ہیں۔

پی پی پی بھی گزشتہ دس سال سندھ کی حکمران جماعت رہی ہے۔

 

 


متعلقہ خبریں