وفاقی بجٹ 2026-27 کے موقع پر سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد میں بجٹ کے موقع پر سرکاری ملازمین کے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کے دوران شارع دستور پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ سرکاری ملازمین نے سیکریٹریٹ چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا، تاہم پولیس نے انہیں پی ٹی وی چوک کے مقام پر روک لیا۔
پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے خاردار تاریں لگا کر راستے بند کر دیے اور مختلف مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔
سیکیورٹی ناکوں اور بندشوں کے باعث وفاقی وزیر خزانہ کو بھی متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے ڈائیورشن کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس جانا پڑا۔ علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ مختلف صوبوں سے ملازمین کی آمد کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا جبکہ ملازمین پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاج کر رہے تھے۔ ملازمین کی نمائندہ تنظیم آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ 10 مارچ 2025 کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان کے مطالبات شامل کیے جائیں۔ مطالبات میں تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیل 2026 متعارف کرانا اور تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کرنا بھی شامل ہے۔
ملازمین نے 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والوں کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے، کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے، پینشن اصلاحات واپس لینے اور موجودہ پینشن نظام برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سندھ میں تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز سامنے آ گئی
مزید مطالبات میں تنخواہوں کے تفاوت کو کم کرنے کے لیے 30 فیصد اضافی ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس، اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب کا خاتمہ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کی بحالی اور نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام شامل ہیں۔
سرکاری ملازمین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔
