وفاقی بجٹ 2026-27 کے موقع پر سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
مختلف صوبوں سے ملازمین کی آمد کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا جبکہ ملازمین پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاج کر رہے تھے۔ ملازمین کی نمائندہ تنظیم آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ 10 مارچ 2025 کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان کے مطالبات شامل کیے جائیں۔ مطالبات میں تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیل 2026 متعارف کرانا اور تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کرنا بھی شامل ہے۔
ملازمین نے 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والوں کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے، کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے، پینشن اصلاحات واپس لینے اور موجودہ پینشن نظام برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سندھ میں تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز سامنے آ گئی
مزید مطالبات میں تنخواہوں کے تفاوت کو کم کرنے کے لیے 30 فیصد اضافی ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس، اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب کا خاتمہ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کی بحالی اور نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام شامل ہیں۔
سرکاری ملازمین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔
