وفاقی آئینی عدالت نے عافیہ صدیقی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔
وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے حکم کے خلاف دائر اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
عدالت کا دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی امین الدین خان کریں گے، 16 جون کو کیس کی سماعت کرے گا۔
وفاقی حکومت نے وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے، قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت وفاقی حکومت کی اپیل اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے عافیہ صدیقی کیس میں وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم واپس لے لیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 21 جولائی 2025 کا حکم ایسے بینچ نے جاری کیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا لہٰذا وہ فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 21 جولائی کا سنگل بینچ کا حکم واپس لیا جاتا ہے، لارجر بینچ کے مطابق قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی “ماسٹر آف دی روسٹر” ہوتے ہیں اور انہیں ہی بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔
بجٹ میں میک اپ، پرفیوم، برانڈڈ ملبوسات اور ذاتی نگہداشت کی درآمدی اشیا پر ڈیوٹی میں کمی کا امکان
فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی بھی جج مقررہ فریم ورک سے ہٹ کر یکطرفہ طور پر دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ روسٹر یا بینچ کی تشکیل کو چیلنج کرنے کا معاملہ اندرونی انتظامی طریقہ کار کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور اسے خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
