الیکشن 2018: انتخابی میدان میں1691 خواتین بھی ہیں


اسلام آباد: پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہزار چھ سو 91 خواتین امیدواران براہ راست الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے 12 اضلاع کے 99  حلقوں میں صرف 36 خواتین ایم پی اے بننے کے لیے انتخابی میدان میں ہیں ۔

الیکشن میں پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو جاری کرنا ہر سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے لیکن سب ہی جماعتوں نے اس قانون کو ’ہوا‘ میں اڑا دیا ہے ۔

جنوبی پنجاب میں براہ راست الیکشن میں حصہ لینے والے خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان کے 13 صوبائی حلقوں میں آٹھ خواتین امیدواران مقابلے میں ہیں ۔

راجن پور کے پانچ حلقوں میں صرف ایک خاتون صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔  جھنگ کے سات حلقوں میں چار خواتین صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کے لیے قسمت آزمائی کر رہی ہیں ۔

خانیوال کے آٹھ اور لودھراں کے پانچ صوبائی حلقوں میں ایک بھی خاتون امیدوار نظر نہیں آئی ہیں ۔

ملتان کے 13 صوبائی حلقوں میں تین اور وہاڑی کے آٹھ حلقوں میں صرف دو خواتین امیدواران ہیں۔ بہاولنگر میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں میں بھی دو خواتین انتخابی میدان میں ہیں۔

بہاولپور میں صوبائی اسمبلی کے دس حلقوں میں چار خواتین امیدواران مقابلے میں ہیں۔ مظفر گڑھ کے گیارہ اور لیہ کے پانچ حلقوں میں چار چار خواتین امیدواران ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے آٹھ حلقوں میں چار خواتین امیدواران  براہ راست مقابلہ کر رہی ہیں ۔ ٍراجن پور کے پانچ حلقوں میں سے صرف ایک خاتون امیدوار میدان میں ہیں۔


متعلقہ خبریں