اکنامک سروے آف پاکستان 2025-26 کے ٹیلی کام شعبے نے مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران قومی خزانے میں 285 ارب روپے کا حصہ ڈالا۔
سروے کے مطابق یہ رقم ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں جمع کرائی گئی، جو حکومتی آمدن میں ٹیلی کام سیکٹر کے نمایاں کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ٹیلی کام سبسکرپشنز کی تعداد مارچ 2026 تک بڑھ کر 20 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جس میں موبائل اور فکسڈ دونوں کنکشنز شامل ہیں۔ اسی عرصے میں ٹیلی ڈینسٹی 82.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو آبادی کے مقابلے میں ٹیلی کام سہولیات کی دستیابی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے تقریباً 509.6 ملین ڈالر، یعنی 142 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن حاصل کی۔
یہ نیلامی 10 مارچ 2026 کو منعقد ہوئی، جس میں ٹیلی کام کمپنیوں کو ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم لائسنسز فروخت کیے گئے۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام شعبہ نہ صرف حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ ڈیجیٹل ترقی اور رابطوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
