پاکستان کی معروف صوفی گلوکارہ عابدہ پروین نے بھارتی لیجنڈری پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہیں ایک نادرِ روزگار فنکارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موسیقی کے میدان میں خدمات ناقابلِ تکرار ہیں۔
عابدہ پروین نے انسٹاگرام پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فن کی وسعت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آشا بھوسلے کی آواز ایک خدائی عطیہ تھی، جس سے دنیا بھر کے سامعین نے فیض حاصل کیا۔
آشا بھوسلے کی مجموعی دولت کتنی تھی؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آ گئے
انہوں نے کہا کہ آشا بھوسلے اور ان کی بہن، مرحومہ لتا منگیشکر، کی آوازیں ہمیشہ موسیقی کی تاریخ میں زندہ رہیں گی، اور اس معیار کے فنکار صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں، جن کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
View this post on Instagram
اپنے بیان میں عابدہ پروین نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے آشا بھوسلے اور لتا منگیشکر سے ملاقات کی خواہش رکھتی تھیں، جو بعد ازاں بھارت کے دورے کے دوران پوری ہوئی۔ انہوں نے 2012 میں میوزک ریئلٹی شو “سرکشیترا” میں بطور جج مشترکہ شرکت کو ایک یادگار تجربہ قرار دیا۔
آشا بھوسلے کی فنی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے عابدہ پروین نے کہا کہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے گلوکار آج بھی ان کے گانوں سے سیکھتے ہیں، جبکہ موسیقی کے مقابلوں میں اکثر شرکاء ان کے گانوں کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم ان کے فن کا معیار اپنی مثال آپ ہے۔
فواد اور عائزہ خان پہلی بار ایک ساتھ بڑی فلم میں جلوہ گر ہونے کو تیار
انہوں نے مزید کہا کہ پیچیدہ دھنوں کو آسانی سے پیش کرنے کی صلاحیت آشا بھوسلے کا نمایاں وصف تھا، جسے موسیقی کے حلقوں میں ہمیشہ سراہا گیا۔ عابدہ پروین کے مطابق آشا بھوسلے نہ صرف ایک عظیم گلوکارہ تھیں بلکہ موسیقی کی دنیا کا ایک مضبوط ستون بھی تھیں۔

اپنی پوسٹ کے کیپشن میں عابدہ پروین نے مرحومہ کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی موسیقی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا، اور سوگواران کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
