لاہور ہائیکورٹ نے گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے مفت بجلی یونٹس ختم کرنا درست قرار دے دیا۔
جسٹس ملک اقبال نے گیپکو آفیسرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا، ڈسکوز، جینکوز،این ٹی ڈی سی اور پی آئی پی سی کے گزیٹڈ افسران کو مفت بجلی یونٹس کی فراہمی ختم کرنا غیر آئینی نہیں،عدالت پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج، قیمتوں کا عالمی موازنہ بھی پیش
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ تمام ادارے حکومت کی ملکیت ہیں، حکومت اپنے زیر انتظام اداروں کیلئے پالیسی بنانے کا پورا اختیار رکھتی ہے، مفت یونٹس کی فراہمی محض ایک سہولت تھی قانونی حق نہیں۔
عدالت نے کہا کہ وفاقی کابینہ کمیٹی کا مفت بجلی یونٹس کی مونیٹائزیشن کا فیصلہ غیر قانونی نہیں،گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کے مفت یونٹس برقرار رکھنا حکومتی پالیسی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلاء کے گاؤن پہننے کی پابندی ختم
فیصلے میں کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں مالی خسارہ روکنے کے اقدامات درست ہیں، افسران کی ملازمت یا تنخواہ کو متاثر نہیں کیا گیا۔
