خلیج فارس میں امریکی بحریہ کے انتہائی جدید اور گراں قدر جاسوس ڈرون MQ-4C Triton کی تباہی نے خطے میں ایک نئی بحث اور کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔
امریکی حکام نے اسے ایک “حادثہ” (Mishap) قرار دیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور ایرانی میڈیا اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
یہ واقعہ 9 اپریل 2026 کو اس وقت پیش آیا جب یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کر کے اٹلی میں واقع اپنے بیس کی جانب واپس جا رہا تھا۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، ڈرون اچانک 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آیا اور 10 ہزار فٹ سے بھی کم سطح پر پہنچنے کے بعد غائب ہو گیا۔ غائب ہونے سے قبل ڈرون نے ایمرجنسی سگنلز بھی نشر کیے۔
تکنیکی و مالی اہمیت
اس ایک ڈرون کی قیمت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے، جو اسے دنیا کے مہنگے ترین جاسوس طیاروں میں شامل کرتی ہے۔
یہ ڈرون 13 ہزار کلومیٹر تک مسلسل پرواز اور جدید ریڈارز و سینسرز کے ذریعے سمندری نگرانی کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنی انتہائی زیادہ قیمت کی وجہ سے امریکی بحریہ کے پاس اب تک صرف 20 ایسے طیارے موجود ہیں۔
اگرچہ امریکہ نے اسے تکنیکی خرابی قرار دیا ہے، لیکن 2019 میں اسی نوعیت کے ڈرون کو ایران کی جانب سے مار گرائے جانے کے واقعے نے حالیہ دعووں کو تقویت دی ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔
