امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کے پہلے دن آبنائے ہرمز سے ایران سے منسلک تیسرا ٹینکر خلیج میں داخل ہو گیا، جس سے اس پابندی کی حدود پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ تینوں جہاز ایرانی بندرگاہوں کی جانب نہیں جا رہے، اس لیے یہ امریکی ناکہ بندی کی زد میں نہیں آتے۔ پاناما کے جھنڈے تلے چلنے والا “پیس گلف” نامی ٹینکر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ حمریہ کی جانب گامزن ہے، جو عموماً ایرانی نیفتھا دیگر مشرق وسطیٰ کی بندرگاہوں تک پہنچا کر ایشیا برآمد کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل بھی دو امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکرز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ “مرلکشَن” نامی جہاز 16 اپریل کو عراق سے فیول آئل لوڈ کرنے جا رہا ہے، جبکہ “رچ اسٹیری” ناکہ بندی کے بعد خلیج سے نکلنے والا پہلا ٹینکر بن چکا ہے، جو تقریباً ڈھائی لاکھ بیرل میتھانول لے جا رہا ہے۔
امریکا نے یہ ناکہ بندی اس وقت اعلان کی جب اسلام آباد میں ہونے والے امریکا۔ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
دوسری جانب چین نے امریکی اقدام کو “خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔
ماہرین کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ناکہ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے اطلاق میں پیچیدگیاں موجود ہیں، جو عالمی توانائی سپلائی اور سمندری راستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
