جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔
کم عمری کی شادی سے متعلق بل واپس نہ لیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے ، مولانا فضل الرحمن
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ آئین کے مطابق کر رہے ہیں ، میں مولانا کو تجویز دے رہا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا انعقاد کریں خواہ وہ 18 سال سے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔
میرا مولانا فضل الرحمٰن کو مشورہ ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں بالغ بچوں کی اجتماعی شادیاں کروائیں، خواہ وہ 18 سال سے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔
اگرچہ میں دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہوں، لیکن اگر مجھے غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔ حافظ حمداللہ pic.twitter.com/BaGRMuoShl— WE News (@WENewsPk) January 26, 2026
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ جو قانون قرآن و سنت کیخلاف ہو اس قانون کو ہم تسلیم نہیں کریں گے ، اگرچہ میں دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہوں لیکر اگر مجھے غصہ آیا اور میں نے فیصلہ کیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔
