پیپلز پارٹی اورن لیگ کی قیادت نے جیل کاٹی لیکن اداروں کیخلاف کبھی بات نہیں کی،فیصل کریم کنڈی

Faisal Kareem

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وفاق نے کےپی کو پیسے دینے ہیں،ہم اس معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں،آپ دلیل اور دلائل کے ساتھ مقدمہ لڑیں،گالم گلوچ سے مقدمہ نہیں لڑ سکتے،صوبے کی ایک پارلیمانی کمیٹی بنائیں اوروفاق کے پاس جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے سسٹم میں رہ کر جدوجہد کی،سیاسی مسائل ہمیشہ پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوتے ہیں،ہماری سوچ ہے کہ سیاسی چیزیں سیاسی طور پر حل ہوں،ہم نے مسائل کا سیاسی حل نکالا اور جدوجہد کی۔

ڈی چوک احتجاج کی قیادت بشریٰ بی بی نے کی ، سیاسی نہ ہونے کا دعویٰ درست نہیں ، فیصل کریم کنڈی

یہ پیپلز پارٹی کااعزاز ہے آصف زرداری 2 بار ملک کے صدر بنے،ہم نے پارلیمان کے فورم پر سیاست کی،پیپلز پارٹی اورن لیگ کی قیادت نے جیل کاٹی لیکن اداروں کیخلاف کبھی بات نہیں کی،پیپلز پارٹی ہمیشہ مسائل کا سیاسی حل نکالتی ہے۔سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ہے اور امن وامان کی صورتحال خراب ہے،ہم چاہتے ہیں کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے صوبے میں امن وامان قائم کیا جائے،غیر قانونی افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس جانا چاہئے،افغان مہاجرین قانونی طورپر آئیں گے تو ہم ان کو ویلکم کریں گے۔

کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزے کے رہ سکتے ہیں،پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں،جب فتنہ الخورج مر جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے اس میں افغان باشندے شامل ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ سارے افغانی برے ہیں،افغان حکومت کو کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے نہ دے،ہم نے بھار ت کو4دن میں شکست دی جسے اپنی فوج پر غرور تھا،ہم نے جس طرح بھارت کو جواب دیا ساری دنیا نے دیکھا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر تبدیلی کی افواہیں، فیصل کریم کنڈی کی تردید

آج دنیا آپ کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے،ہر مہینے کوئی نا کوئی ہیڈ آف اسٹیٹ پاکستان آرہے ہیں،ہم نے جنگی میدان کے ساتھ ساتھ سفارتی میدان میں بھی بھارت کو شکست دی،آج عالمی جریدوں نے بھی ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔

صوبائی حکومت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو سپورٹ کرے اور غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجے،پاکستان کی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔صوبے سے فوج نکال دیں تو ہم دو دن صوبہ نہیں چلا سکتے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp