اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق (Ayaz Sadiq)کا کہنا ہے کہ اداروں میں تعاون کے بغیر نظام میں تبدیلی ممکن نہیں،قومی انسانی حقوق کمیشن کی 4 سالہ کارکردگی قابل ستائش ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فعال جمہوریت کی بنیاد مساوات، انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی ہے،ریاست کی پہلی ذمہ داری کمزور طبقات کا تحفظ ہے،انسانی وقار کسی انتخاب کا محتاج نہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا، ایاز صادق
پارلیمنٹ بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے،بطور اسپیکر اراکین قومی اسمبلی کے حقوق کا تحفظ میری اولین ترجیح ہے،اپوزیشن اور حکومتی اراکین کو میں نے ہمیشہ مساوی حیثیت دی ۔

پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے میں سیاست سے بالاتر ہو کر کردار ادا کیا ،زیر حراست اراکین قومی اسمبلی کی رہائش گاہوں کو سب جیل قرار دیا ۔
قومی اسمبلی نے قانون سازی اور نگرانی کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔پارلیمانی کمیٹیوں کو فعال کیا، ایگزیکٹو احتساب میں توسیع کی ،پارلیمانی عمل کو مزید عوامی اور قابلِ رسائی بنایا گیا ہے۔
اسپیکر ایاز صادق نے پارلیمان میں خواتین کو 30 فیصد ملازمتیں فراہم کرنے کا عزم ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے،پاکستان بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری پر کار بند ہے۔
خواجہ آصف کی تنقید ، اسپیکر ایاز صادق کا بڑھی ہوئی تنخواہ لینے سے انکار
غزہ کا انسانی المیہ عالمی ضمیر پر بھاری بوجھ ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،کشمیری عوام سات دہائیوں سے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔
پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والا ملک ہے،پاکستان کا زیریلی گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔موسمیاتی بحران پاکستان کے لیے خطرہ بن چکا ہے،عالمی برادری پر ماحولیاتی انصاف اور فنانسنگ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ثابت قدمی دکھائی ہے۔
پاکستان نے 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین میں بعض عناصر نے دہشتگرد نیٹ ورکس کی معاونت کی،سرحد پار دہشتگردی علاقائی استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
اسپیکر ایاز صادق کی مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات، اسلاموفوبیا کیخلاف کوششوں کو سراہا
پاکستان کا مقصد کشیدگی نہیں، امن، تعاون اور باہمی احترام ہے،حقوق عملی طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں، صرف کاغذی نہیں،اداروں میں تعاون کے بغیر نظام میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
