وزیراعظم نے قومی ایئر لائن (pia)کی نجکاری کے مراحل شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائینز کے امور پر اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،وفاقی وزیر احد چیمہ ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
پی آئی اے شعبہ انجینئرنگ کومخصوص الاؤنس دینےکا فیصلہ
وزیراعظم نے پی آئی اے کی قابل پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کردی ۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کی پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ۔
اجلاس کو پی آئی اے کی نجکاری اور اس حوالے سے بزنس پلان پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق 4 پارٹیز کو پری کوالیفائی کیا گیا ہے جلد ہی بڈنگ ہو گی۔
نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور اس کی تھیم نہیں بدلی جائے گی ،2029میں پی آئی اے فلیٹ میں قابل پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 38 کی جائے گی ،اس وقت قومی ایئر لائن 30 سے زائد شہروں میں سروس مہیا کر رہی ہے۔
لاہور سے جدہ جانیوالی پی آئی اے کی پرواز پرندہ ٹکرانے کے بعد کراچی میں اتار لی گئی
بزنس پلان کے تحت 2029 تک پی آئی اے کی سروسز 40 سے زائد شہروں تک بڑھائی جائے گی،پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری ہو گی۔

