لاہور ہائیکورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست کے معاملے پر بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواستوں پر سماعت کے لیے تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا ہے، فل بینچ کے سربراہ جسٹس صداقت علی خان ہوں گے۔
27 ویں ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل ، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو
جسٹس جواد حسن اور جسٹس سلطان تنویر فل بینچ کے ممبر ہوں گے۔ یاد رہے کہ درخواست میں وزیر اعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بذریعہ سیکرٹریز فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کا اصل اختیار ختم کرکے وفاقی آئینی عدالت بنا دی گئی ہے۔اس سے سپریم کورٹ کی حیثیت کمزور ہونے اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
درخواست کے مطابق ترامیم اسلامی دفعات، عدالتی خود مختاری اور بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، صوبوں کی مشاورت کے بغیر ترمیم سے آئینی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، وکلا، سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر طبقات سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔
سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں کارروائی، اہم خارجی سرغنہ سمیت 15 دہشت گرد ہلاک
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ ستائیسویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلہ تک ترمیم پر عملدرآمد روکے۔
