پنجاب پولیس کے ایک اہلکار نے جھیکا گلی چوک میں مبینہ طور پر ایک اوورسیز پاکستانی کو کھمبے سے باندھ دیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس کے رویے پر سوالات اٹھنے لگے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ مقامی عدالت کے باہر کانسٹیبل مبشر اور شہری خالد لطیف کے درمیان تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔
پولیس اہلکار نے مؤقف اختیار کیا کہ خالد نے اس پر حملہ کرنے اور جان سے مارنے کی کوشش کی۔
اہلکار کے مطابق خالد کے خلاف 2 مقدمات زیرِ سماعت ہیں، ایک میں اسے ضمانت ملی تھی جبکہ دوسرے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری تھے، اور وہ گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب، خالد نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف صرف ایک مقدمہ تھا جس میں عدالت نے اسی روز ضمانت منظور کی۔
اس نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ خالد نے مزید بتایا کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور 4 ممالک میں کاروبار ہیں۔
انہوں نے پولیس پر مزید الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مری میں ایک بلڈنگ خریدی تھی تاہم یہاں کی پولیس قنضہ مافیا کے ساتھ مل کر ان کے خلاف بے بنیاد کیسز بنا رہی ہے جو ناجائز پریشر بنا کر وہ بلڈںگ ان سے اونے پونے داموں ہتھیانے کے چکروں میں ہے۔
واقعے کے بعد خالد اور اس کے وکلا ڈی پی او آفس پہنچے جہاں پولیس حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

