ملک کے سرِ فہرست تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ( Quaid‑e‑Azam University )اور برطانیہ کی معتبر کیمبرج یونیورسٹی(University of Cambridge )نے ایک تاریخی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ جامع تحقیق اور جدت کو فروغ دینے، خاص طور پر موادِ سائنس، صاف توانائی، ہوائی جہاز سازی، صحت و علاج، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات کھولنے کے لیے کیا گیا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی نے انسانی خون کے خلیات پیدا کرنے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا
معاہدے کی سرکاری تقریب کیمبرج میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، احسن اقبال( Ahsan Iqbal) قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر(Niaz Ahmed Akhtar)اور کیمبرج یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔
تعاون کے دائرہ کار کے تحت ابتدائی سو دن میں تین کلیدی محاذوں پر کام کیا جائے گا: یونیورسٹیوں کے مابین تحقیق و تبادلہ،انڈسٹری پارٹنر شپ، اور ترقیاتی منصوبوں کا آغاز، تاکہ طویل مدتی تعاون کے لیے بنیاد رکھی جائے۔
معاہدے کے تحت حکومت نے کیو اے یو اور کیمبرج کے اشتراک سے 3.5 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، اور اس کے علاوہ کامیابی کے لیے 70 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی معاونت مختص کی گئی ہے۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی ’’علمی معیشت‘‘کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موادِ سائنس ہی وہ خاموش انجن ہے جو مستقبل کی معیشت کو طاقت فراہم کرے گا چاہے وہ ہوائی جہاز ہو، صاف توانائی ہو، صحت کی ٹیکنالوجی ہو یا ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ۔
اولیولز اور اےلیولز کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے،کیمبرج بورڈ
تعلیم اور تحقیق کے ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لئے بہت معنی رکھتا ہے کیونکہ اس سے ملک کی یونیورسٹیز بین الاقوامی معیار کے تحقیقی مراکز کے ساتھ مربوط ہوں گی، اور تحقیقاتی نتائج کو صنعت میں منتقل کرنے، اور عالمی مارکیٹ میں حصہ لینے کے دروازے کھلیں گے۔
اسی تناظر میں،قائد اعظم یونیورسٹی کے حکام نے کہا ہے کہ وہ اس شراکت داری کو نہ صرف ایک معاہدے کے طور پر بلکہ حقیقی نتائج کے طور پر دیکھتی ہے ۔یہ اقدام پاکستان کی بڑھتی ہوئی خواہش کی عکاسی ہے کہ وہ عالمی تحقیقاتی چیلنجز میں شریک ہو، اور اپنے تعلیمی و سائنسی شعبوں کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنائے۔

