کراچی: شہر قائد میں اسپتال کے اخراجات ادا کرنے کے لیے نومولود کو فروخت کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے میمن گوٹھ کے نجی اسپتال میں نومولود بچے کے فروخت کا واقعہ ہوا۔ جس کا مقدمہ بچے کے والد سارنگ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق میمن گوٹھ کے نجی اسپتال میں شمع نامی حاملہ خاتون ڈاکٹر سے معائنہ کروانے گئی۔ تو ڈاکٹر نے اسے زچگی آپریشن کے لیے رقم جمع کرانے کا کہا۔ خاتون نے ڈاکٹر سے رقم نہ ہونے کا تذکرہ کیا۔ تو ڈاکٹر نے خاتون کو بتایا کہ ایک خاتون بچے کی خواہشمند ہے اور وہ بچے کو نہ صرف پالے گی بلکہ تمھارے آپریشن کے اخراجات بھی برداشت کرے گی۔
خاتون نے ڈاکٹر کی بات پر حامی بھر لی اور آپریشن کے بعد پیدا ہونے والے بیٹے کو خواہشمند خاتون کے حوالے کر دیا۔
بچے کے والد سارنگ کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں بتایا گیا کہ وہ جامشورو کا رہنے والا ہے۔ اور اہلیہ چند ماہ قبل ناراض ہوکر والدین کے گھر چلی گئی تھی۔
5 اکتوبر کو اہلیہ اپنی والدہ کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے گئی۔ تو ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا اور رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ رقم نہ ہونے پر ڈاکٹر نے بچہ فروخت کرنے کا مشورہ دیا۔
سارنگ نے کہا کہ مجھے لڑکے کی پیدائش کا علم ہوا تو اسپتال پہنچا جہاں پر تمام صورتحال کا علم ہوا۔ بچے لے جانے والی خاتون شمع بلوچ اسپتال کی ہی ملازمہ تھی۔ اور بچہ لے جانے کے بعد سے اس کا نمبر بند ہے اور اس سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ مجھے خدشہ ہے کہ شمع بلوچ نے بچے کو آگے فروخت کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بانی کو جانتی تک نہیں، فواد چودھری
اینٹی وائلٹ کرائم سیل نے والد کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے بچے کو پنجاب سے بازیاب کروا لیا اور والدین کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے نجی اسپتال کو بھی سیل کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ جبکہ ملزمہ شمع بلوچ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
