چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیراحمد کا کہنا ہے کہ نیب نے ڈھائی سال کے دوران میں 8 ہزار 397 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کی ریکوری کی جو امریکی ڈالرز میں 29 ارب ڈالرز سے زائد بنتی ہے ۔
اسلام آباد میں ہونے والی میڈیا بریفنگ میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیراحمد اور نیب ٹیم نے میڈیا کو بریفنگ دی اور کہا کہ ملک بھر میں 8 ہزار 397 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کی ریکوری نیب کی کاکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
بریفنگ کے مطابق نیب نے اپنے قیام سے فروری دو ہزار تئیس یعنی پہلے تئیس سال میں صرف 883 ارب روپے مالیت کی ریکوری کی تھی ، اس طرح دیکھا جائے تو پہلے تئیس سال میں نیب کی ہر سال کی اوسط ریکوری صرف 38 ارب روپے سالانہ تھی جب کہ مارچ 2023 سے اب تک ڈھائی سال میں سالانہ اوسطا تین ہزار ارب روپے مالیت کی ریکوری کی گئی ۔۔یعنی 270 ارب روپے ماہانہ ۔
بریفنگ میں یہ بھی دعوی کیا گیا کیونکہ نیب کی کارکردگی اور یہ اعدادوشمار ناقابل یقین ہیں لیکن یہ سب ثبوتوں کے ساتھ ہے اور اس کو چیلنج کرنے والے کسی بھی فورم پر جاسکتے ہیں۔
بریفنگ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ماضی میں نیب پر حکومت کا آلہ کار یعنی سیاسی طور پراستعمال ہونے کا الزام لگتا رہا ہے اس کے علاوہ شفاف نظام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے بھی نیب کو استعمال کیا لیکن اب ان ڈھائی سالوں میں نیب نے ریفارمز پر کام کیا اور ایس او پی بنائے جس کی وجہ سے اب حکومت، سیاست دان ، تاجر ،افسر شاہی ، صنعتکار اور عوام نیب پر اعتماد کرنے لگے ہیں ، چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب کسی کی پگڑی نہیں اچھالتا اور نہ ہی کسی کے دباو میں آکر کوئی کارروائی کرتا ہے ۔ثبوت ہو گا تو کارروائی آگے چلے گی ورنہ نہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ، ہم اراکین پارلیمنٹ سمیت ہر متعلقہ فورم کو تجاویز دیں گے کہ وہ نیب کی مزید بہتر کارکردگی کیلئے کرپشن کیسز میں 50 کروڑ یا اس سے زائد رقم کی مبینہ کرپشن پر نیب کے ایکشن بننے کی ترمیم کو نظر ثانی کر کے اس حد کو کم کرے ،، اسی طرح پبلک چیٹنگ پر کم سے کم 100 افراد کی شکایات پر نیب کے ایکشن بننے پر بھی نظر ثانی کی جائے اور اس حد کو کم کیا جائے۔
چیئرمین نیب نے بتایا کہ ۔ آرٹیفیشل اینٹیلجنس کی مدد سے سالوں کا کام اب منٹوں میں کیا جارہا ہے ۔لیکن اے آئی سسٹم کو وقتا فوقتا کراس چیک کیا جاتا ہے۔ نیب میں آںے والی بے نامی شکایات کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن شکایت کرنے والا اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط نیب کو پہلے سے بتاسکتا ہے۔کمپلین ویریفکیشن کا نظام بہتر کیا ہے۔آن لائن نظام میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔
بریفنگ میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کو پیپر لیس کر دیا گیا ہے۔۔ہم نے شعبہ جاتی ترجیحات بنائی ہیں۔۔۔۔سرکاری محکموں میں فنڈز کی خورد برد غیر ضروری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لئے اداروں کے ساتھ پارٹنر شپ پر کام کر رہے ہیں۔انسداد منی لانڈرنگ پر بہت موثر کام ہو رہا ہے۔۔۔۔اس سلسلے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جار ہی ہیں۔۔کئی اہم ممالک سے ایم او یوز سائن ہوئے ہیں ۔ نیب نے جرائم کے خلاف بین الاقوامی روابط کو مزید بہتر کیا ہے ۔
میڈیا بریفنگ میں یہ کہا گیا کہ دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے زیادہ بدنام کیا جاتا ہے حالانکہ یہ وہ ملک ہے جہاں سے لوگ اربوں کھربوں لوٹ کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں جہاں ان سے اس پیسے پر کوئی سوال تک نہیں کیا جاتا۔
نیب کا فراڈ متاثرین کو بازیاب رقوم آن لائن بھیجنے کا فیصلہ
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اندرونی احتساب کے نظام کے تحت اختیارات سے تجاوز کے الزام میں نیب کے تین افسروں کو برطرف کر دیا۔۔۔نیب کے اندر بدعنوانیوں کو روکنے کےلئے اندرونی احتساب کا نظام نافذ کر دیا ہے۔۔ایک خصوصی نگران کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں آرمی۔۔۔آئی بی۔۔ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔۔یہ کمیٹی مستقل بنیادوں پر نیب کے اندرونی نظام سے بدعنوانیوں کے خاتمے کےلئے کام کررہی ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی سہولت کاری،کرپشن کی سب سے بھیانک صورت ہے،آف شورکمپنیاں اور سیاسی پناہ کی آڑ کرپٹ عناصرکیخلاف کارروائی میں رکاوٹ ہے،باہمی قانونی معاونت کے بجائے مقامی قوانین کاسہارالے کر کرپٹ عناصرکو بچا لیا جاتا ہے۔پلی بارگین میں کم رقم وصول کرنے کا تاثردرست نہیں۔۔۔۔۔زیادہ ترکیسزمیں اصل سے زیادہ رقم وصول کی۔،۔پلی بارگین پرنیب کا حصہ وصول کرنے کا تاثریکسرغلط ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ پارلیمنٹ اور سرکاری اداروں کیلئے احتساب سہولت سینٹرز بنا دیئے ہیں۔صوبوں کے چیف سیکرٹری کے لیول پر بھی سہولت کار سینٹرز کے ذریعے رابطہ رہتا ہے۔اسپیکر آفس اور چیئرمین آفس کے ذریعے ارکان اسمبلی اور سینٹرز سے رابطہ رہنا ہے۔کسی وزیراور پارلیمنٹرین کو طلب نہیں کرتے۔۔۔اسپیکر آفس میں خصوصی ڈیسک بنایا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن۔چیف سیکرٹریز اور تمام چیمبرز میں بھی احتساب سہولت ڈیسک بنائیں گے۔
نیب حکام کے مطابق 29 بلین ڈالرز کی مالیت کی ریکوری میں سب سے بڑا حصہ مختلف صوبوں کی فاریسٹ اور مینگروز لینڈ کی ریکوری تھی ۔حکام کے مطابق واپڈا، ریلوے، بورڈ آف ریونیو کی زمینیں واگزار کرائی ہیں، سندھ حکومت کو 30 لاکھ 92 ہزار ایکڑ زمین ریکور کرکے دی۔
نیب حکام کے مطابق سندھ میں نیشنل ہائی وے کی 1228 ایکڑ اراضی سرکار کے نام منتقل کرائی، حیدر آباد کراچی موٹروے کی جو زمینیں خریدی گئیں، وہ سرکار کے نام نہیں تھیں۔
حکام کے مطابق اسلام آباد سیکٹر ای الیون میں 29 ارب کی اراضی کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کے سپرد کی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان اسکینڈل میں 25 ارب کی ریکوری ہو چکی، باقی کا عمل جاری ہے، بی آر ٹی خیبر پختونخوا پر چینی کمپنی کا کیس طے کرا کے 168 ارب جرمانے سے بچایا۔
چیئر مین نیب کے مطابق پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کر مشترکہ ٹاسک فورس کا قیام زیر غور ہے جس کے بعد ملک بھر میں ریلوے کی قبضہ ہوائی زمین کو واگزار کرایا جائے گا۔
چییئر مین نیب نے کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ نیب کورٹس نیب کے ماتحت کام کرتی ہیں،،،انھوں نے واضح کیا کہ نیب کورٹس یا احتساب عدالتوں کا نیب سے کوئی تعلق نہیں ،، نیب عدالت ہائی کورٹس کے تحت کام کرتی ہیں۔
