سوڈان کے شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) کے قبضے کے بعد ہزاروں شہریوں کے قتل عام اور نسلی بنیادوں پر جنسی زیادتی اور دیگر مظالم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شہر میں تقریباً ایک لاکھ 77 ہزار عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ جو محفوظ مقامات تک نہیں پہنچ پا رہے۔ آر ایس ایف نے نہتے شہریوں پر نسلی بنیادوں پر حملے کیے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بے شمار شہریوں کو زندہ جلایا گیا۔ جبکہ کچھ کو زبردستی اپنی قبریں کھودنے اور خود کو دفنانے پر مجبور کیا گیا۔ شہر میں گھروں پر حملے، خواتین سے جنسی زیادتی اور موقع پر ہی قتل کے واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔

صرف چند گھنٹوں میں 2 ہزار کے قریب افراد مارے گئے۔ جب آر ایف ایس نے شدید لڑائی کے بعد الفاشر شہر پر مکمل قبضہ کر لیا۔ جو مئی 2024 سے آر ایس ایف کے محاصرے میں تھا۔
ڈاکٹرز یونین کے مطابق شہر سے بچ نکلنے والے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جو لوگ گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں ان کی گاڑیوں سمیت جلا دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صرف 2 دنوں میں 36 ہزار سے زائد افراد شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جبکہ 28 ہزار افراد اب بھی شمالی دارفور کے دوسرے علاقوں میں پناہ تلاش کر رہے ہیں۔

سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ الفاشر کے سعودی اسپتال میں پیش آیا۔ جہاں آر ایس ایف اہلکاروں نے 450 سے زائد زخمیوں اور مریضوں کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اسی دوران ایک ہزار 2 سو سے زیادہ بزرگ، مریض اور طبی عملہ بھی مختلف میڈیکل مراکز میں مارے گئے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک آر ایس ایف کے حملوں میں ایک ہزار 2 سو سے زیادہ طبی عملے اور مریض مارے گئے۔ جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
ڈاکٹرز یونین نے اس صورتحال کو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دارفور میں آر ایس ایف کے جاری مظالم کا تسلسل ہے۔
بیان میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر سوڈان کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے زیر قبضہ ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں متحرک
یاد رہے کہ سوڈان میں افواج اور آر ایس ایف کے درمیان خانہ جنگی اپریل 2023 سے جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور 1.5 کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
