واشنگٹن،امریکی محکمۂ دفاع نے حکومت کی شٹ ڈاؤن کی صورت حال میں فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 13 کروڑ ڈالر کا عطیہ قبول کرلیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ رقم ایک غیرنامزد عطیہ دہندہ کی طرف سے دی گئی ہے، جس کے استعمال کی شرط یہ رکھی گئی کہ اسے صرف فوجیوں کی تنخواہوں اورمراعات کے اخراجات کے لیے استعمال کیا جائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عطیہ دہندہ کو “محب وطن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شناخت ظاہرنہیں کرنا چاہتے۔ صدر نے مزید کہا کہ یہ رقم امریکی فوج کے اہلکاروں کی مالی معاونت کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
برطانیہ میں آج تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جائیں گی
عطیہ کو “جنرل گفٹ ایکسپٹنس اتھارٹی” کے تحت منظورکیا گیا ہے تاکہ قانونی اورمالی ضوابط کے مطابق اس کا استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ عطیہ کے ذریعے فوجیوں کو بروقت تنخواہیں فراہم کی جائیں گی اور ان کے مراعاتی اخراجات بھی پورے ہوں گے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے قانونی پہلوؤں اورشفافیت پرسوالات اٹھ سکتے ہیں، کیونکہ عطیہ دینے والے کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے۔
امریکی شٹ ڈاؤن کے دوران لاکھوں سرکاری ملازمین اور فوجی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اوراس موقع پر نجی عطیات کی مدد سے اہم اخراجات کو پورا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اس اقدام کو کئی حلقوں نے مثبت قراردیا ہے جبکہ کچھ نے اس پرشفافیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔
