پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
وزیراطلاعات عطاء تارڑنے آئندہ 12 گھنٹے کو انتہائی اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہیڈمرالہ پر 4 لاکھ کیوسک کا ریلا گزررہا ہے جبکہ پانی کی آمد 7 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، ملحقہ علاقوں سے شہریوں کے فوری انخلا کا الرٹ جاری
دریائے راوی سے ملحقہ لاہور، شاہدرہ، موٹروے کے اطراف اوردیگرکئیعلاقوں میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز، ساہیوال، چیچہ وطنی، سمندری، شورکوٹ، احمد پورسیال، قصور، پتوکی، بورے والا، میلسی اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے متعدد اضلاع ممکنہ طورپرشدید متاثرہوسکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے فلڈ الرٹ جاری کردیا ہے جبکہ وزیراعظم نے تمام وزرا اورارکانِ پارلیمنٹ کو اپنے حلقوں میں پہنچ کرامدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔
تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اوردریا کے کنارے آباد آبادیوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
