قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواتین کوغیرمنصفانہ طور پرگھر سے بے دخل کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے لیے فوجداری قانون ترمیمی بل 2025ء پیش کردیا گیا۔
یہ بل پاکستان پیپلزپارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا اگرشوہریا گھرکا کوئی بھی فرد کسی خاتون کوبلاجوازگھرسے نکالتا ہے تواسے تین سے چھ ماہ قید کی سزا دی جا سکے گی اوردولاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
قومی اسمبلی میں پنجاب کی نئی حد بندی اور نیا صوبہ بنانے کا بل پیش
ترمیم کے مطابق یہ اقدام جرم تصور کیا جائے گا اوراس کی سماعت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کرے گا، شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین کو گھریلو تشدد اورذہنی اذیت کے بعد گھرسے نکال دینا عام ہوتا جا رہا ہے، جسے قانونی طورپرجرم قراردینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بل کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اوران کیخلاف ہونیوالے ظلم کی روک تھام ہے، ڈپٹی اسپیکرنے مجوزہ بل کومزید غورووض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا، جہاں اس پرمزید مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔
