امریکا نے شہری حقوق کے ممتاز رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق طویل عرصے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات منظرعام پرلا دی ہیں۔
انٹیلی جنس ڈائریکٹرتلسی گیبرڈ کے مطابق یہ 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد صفحات پرمشتمل دستاویزات ایف بی آئی کی تحقیقاتی فائلوں کا حصہ ہیں۔
ممبئی ہائیکورٹ نے 200 کے ٹرین بم دھماکوں کا فیصلہ سنا دیا ، 12 ملزمان بری
یہ اقدام قتل کے 57 سال بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد تاریخی شفافیت کوفروغ دینا اورعوام کواصل حقائق تک رسائی دینا ہے۔
مارٹن لوتھرکنگ کو 1968 میں قتل کیا گیا تھا، جس پراب بھی مختلف قیاس آرائیاں موجود ہیں، ان دستاویزات کے جاری ہونے سے کئی اہم پہلوؤں پرروشنی پڑنے کی توقع ہے۔
