یروشلم: اسرائیل کی اہم مذہبی جماعت نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اتحاد ختم کر دیا ہے۔
حکومت سے علیحدگی کی وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بنا جس میں مذہبی طلبا کو فوجی سروس سے استثنیٰ کو کالعدم قراردیا گیا۔
ٹرمپ کا روس پر دباؤ، یوکرین کوامریکی ہتھیار اور روس کو 50 دن کی مہلت
اختلافات کے بعد مذہبی جماعت کے 6 ارکان نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا، جس کے نتیجے میں 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں نیتن یاہوکی اکثریت گھٹ کر61 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بحران نیتن یاہو حکومت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے اورممکنہ طور پرقبل از وقت انتخابات کی راہ ہموارہوسکتی ہے۔
