ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ آئندہ 2 ہفتوں میں ایران کے حوالے سے فیصلہ کریں گے،میڈیا میں ایسی بہت ساری باتیں ہیں جن کا ٹرمپ سے کوئی تعلق نہیں۔
کیرولین لیوٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران پرصدر ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے میڈیا میں قیاص آرائیاں ہیں ،امریکا کی ایران اسرائیل جنگ میں شمولیت کی خبر پر صدر ٹرمپ نے پیغام دیا ہے،مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں بھی ہو سکتے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہونا چاہیے،ڈونلڈ ٹرمپ کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکلے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ رابطےجاری ہیں ،ایران کو 60 دن کا وقت دیا گیا، ایران نے جوہری معاہدہ نہیں کیا،معاہدے نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل نے 61 ویں دن ایران پر ایکشن لیا۔
ایران 2ہفتوں میں میز پر نہیں آیا تو صدر ٹرمپ ایران کے متعلق فیصلہ کریں گے،اسٹیو وٹکوف نے ایران کو جو ڈیل تجویز کی وہ قابل قبول تھی۔
پاکستان کو کھل کر ایران کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے،مولانا فضل الرحمان
امریکی صدر امن پسند ہیں اور تنازعے کو سفارتی کوششوں سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں،امریکی صدر کی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔
