کیپٹن صفدر اڈیالہ جیل منتقل


اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد  کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو اڈیالہ جیل بھیج  دیا گیا ہے۔

کیپٹن صفدرکو بکتربند گاڑی کے ذریعے بیرک تک لے جایا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو جیل میں عام قیدیوں کی طرح رکھا جائے گا۔

اڈیالہ جیل کے اطراف میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، جیل کی چار کلومیٹر حدود میں موبائل جیمرز نصب کر دیے گئے ہیں، جیل کے قریب کی دکانوں اور ہوٹلوں کا ازسرنو ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے اپنی رپورٹ میں میڈیا کی لائیو گاڑیوں کے پرائیویٹ گاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہونے پر خدشات کا اظہار کیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا گاڑیوں کے ساتھ شناخت کرائے بغیر غیرمتعلقہ افراد بھی آ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے کیپٹن صفدر کو بکتر بند گاڑی میں نیب آفس راولپنڈی سے سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت پہنچایا گیا، حفاظتی انتظامات کی نگرانی سپرنٹنڈنٹ پولیس عامر نیازی کر رہے تھے جبکہ اڈیالہ جیل کے اہلکار بھی احتساب عدالت پہنچے تھے۔

احتساب عدالت نے جمعہ کے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ پر بطور گواہ دستخط کرنے اور نیب سے تعاون نہ کرنے کے جرم میں ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔

سزا سنائے جانے کے وقت کیپٹن صفدر عدالت میں موجود نہیں تھے، ان کی گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیمیں ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ روانہ ہوئی تھیں اور انہوں نے کئی مقامات پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے تھے تاہم انہوں نے اتوار کے روز لیاقت باغ راولپنڈی کے سامنے اپنی گرفتاری دی جس کے بعد انہیں نیب راولپنڈی آفس منتقل کر دیا گیا تھا۔

نیب آفس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں انہیں مکمل طور پر صحتمند قرار دیا گیا۔

کیپٹن صفدر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سب سے زیادہ 92 دفعہ عدالت میں پیش ہونے کے بعد پیر کو پہلی بار ایک قیدی کی حیثیت سے  پیش ہوئے، ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو قصور وار قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کیپٹن صفدر کی عدالت پیشی کے وقت نیب کورٹ کے داخلی دروازے پر پولیس نے میڈیا کے نمائندوں سے  بد تمیزی کی اور انہیں کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا۔

کیپٹن صفدر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو فیصلے کی کاپیاں موصول ہو گئی ہیں، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے جواب میں کہا کہ جی فیصلہ مل گیا ہے۔

ضروری عدالتی کارروائی اور دستاویزات کی تکمیل کے بعد جج نے کیپٹن صفدر کو اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات صادر کر دیے۔


متعلقہ خبریں